ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ایم ایف این ہو یا نہیں؟ہندو پاک کاروبار کافی کم سطح پر قائم

ایم ایف این ہو یا نہیں؟ہندو پاک کاروبار کافی کم سطح پر قائم

Mon, 26 Sep 2016 12:24:22    S.O. News Service

نئی دہلی، 25؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )ہندوستان کی طرف سے پاکستان کو دیئے گئے سب سے زیادہ ترجیحی ملک(ایم ایف این )کا درجہ واپس لینے کی رپورٹ کے درمیان صنعت تنظیم ایسوچیم نے کہا ہے کہ خصوصی شق سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت پر کوئی فرق نہیں آیا ہے اوریہ بہت کم سطح پر بنی ہوئی ہے۔مالی سال 2015-16میں ہندوستان کی کل اجناس کا کاروبار641ارب ڈالر رہا جس میں پاکستان کا حصہ صرف 2.67ارب ڈالر تھا ۔ہندوستان کی طرف سے پڑوسی ملک کو برآمدت 2.17ارب ڈالر یا ہندوستان کی کل برآمدات کا 0.83فیصد تھا۔وہیں درآمد ات 50کروڑ ڈالر یا 0.13فیصد رہی ۔ایسوچیم کے صدر ڈی ایس راوت نے کہاکہ مجموعی طورپر پاکستان کے ساتھ کاروبار ہندوستان کے کل عالمی اجناس کے کاروبار کا .41فیصدہے۔انہوں نے کہاکہ اس لیے ایم ایف این کا درجہ ہو یا نہ ہو، دو طرفہ تجارت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ہندوستان نے پاکستان کو ایم ایف این کا درجہ دیا جبکہ پڑوسی ملک نے ایسا نہیں کیا۔ایم ایف این کے درجے کے بعد بھی پاکستان کی ہندوستان کو برآمدات نصف ارب ڈالر سے کم بنی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی وجوہات سے کمپنیاں ایک دوسرے ملک میں دلچسپی نہیں دکھاتیں ۔راوت نے کہاکہ آج جو صورت حال ہے، اسے دیکھتے ہوئے مستقبل قریب میں اس میں تبدیلی کی امیدنہیں ہے۔نومبر میں نئی دہلی میں سالانہ ہندوستانی بین الاقوامی تجارتی میلے میں بھی علامتی طور پر پاکستانی کمپنیوں کی موجودگی کی توقع نہیں ہے۔اس درمیان، صنعتی دنیا نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ہندوستان کے مفادات کو آگے بڑھانے کی حمایت کی ہے۔اس نے کہا کہ اسٹریٹجک فیصلہ پوری طرح حکومت کے دائرۂ اختیار کے تحت آتا ہے۔


Share: